بدھ، 3 فروری، 2021

"محمدﷺ کی شان"

 ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺟﺮﻣﻦ ﺑﺤﺮﯾﮧ ﮐﮯ ﺳﺮ ﺑﺮﺍﮦ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ : " ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺭﺳﻮﻝ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﺁﺩﻣﯽ ﮨﻮ۔

ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : " ﻣﯿﺮﺍ ﺭﺳﻮﻝ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ ؟ " ۔

ﺟﻨﺮﻝ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ": ﺗﻢ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺭﺳﻮﻝ ﻣﺤﻤﺪ ﮨﮯ " ۔

ﻧﻮﺟﻮﺍن نے ﮐﮩﺎ : " ﺗﻢ ﮐﯿﺴﮯ ﺑﮍﮮ ﺁﺩﻣﯽ ﮨﻮ؟ " ۔

ﺟﻨﺮﻝ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ": ﻣﯿﺮﮮ ﺍﯾﮏ ﺣﮑﻢ ﭘﺮ ﯾﮧ ﺑﯿﺲ ﮨﺰﺍﺭ ﻓﻮﺟﯽ ﺟﻮﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮨﯿﮟ 10 ﻣﻨﭧ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺻﻒ ﺑﺴﺘﮧ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔

ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ": ﺍﮔﺮ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻋﻤﺮ ﮐﮯ ﺑﯿﺲ ﮨﺰﺍﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﻻﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺻﻒ ﺑﺴﺘﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﺘﻨﺎ ﻭﻗﺖ ﻟﻮﮔﮯ؟

ﺟﻨﺮﻝ : ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﺗﺮﺑﯿﺖ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ 2 ﮔﮭﻨﭩﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﯿﺪﮬﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔

ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﮯ ﻟﭗ ﭨﺎﭖ ﺁﻥ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺣﺮﻡ ﻣﮑﯽ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﻨﻈﺮ ﺟﻨﺮﻝ ﮐﻮ ﺩﮐﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ : ﺩﯾﮑﮭﻮ ﯾﮧ ﺗﯿﻦ ﻣﻠﯿﻦ ﻟﻮﮒ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺍﻣﺎﻡ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﺻﻔﯿﮟ ﺳﯿﺪﮬﯽ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﯿﺴﮯ ﺳﯿﺪﮬﯽ ﺻﻔﯿﮟ ﺑﺎﻧﺪﮬﺘﮯ ﮨﯿﮟ،ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻣﻠﮑﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﺋﮯ ﮨﯿﮟ،ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻮ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ،ﺍﻥ ﮐﯽ ﻋﻤﺮﯾﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﮨﯿﮟ،ﻣﺮﺩ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺑﮭﯽ،ﺑﭽﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﺑﮭﯽ،ﻣﻌﺬﻭﺭ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﯾﺾ ﺑﮭﯽ ،ﻣﮕﺮ ﺍﯾﮏ ﺁﻭﺍﺯ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﻣﻨﭧ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺴﮯ ﺻﻒ ﺑﺴﺘﮧ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ،ﯾﮧ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ ﮐﯽ ﺗﻌﻠﯿﻤﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﺗﺮﺑﯿﺖ ﮐﺎ ﻧﺘﯿﺠﮧ۔

"اپنے بچوں پر رحم کیجئے"

 اپنے بچوں پر رحم کیجئے- -  گل نوخیز اختر

ہمارے دور میں پرائمری سکولوں میں داخلے کے وقت اکثر بچوں کی عمرکچھ زیادہ بتائی جاتی تھی کیونکہ چھ سال سے کم عمر کے بچے کو ’’کچی‘‘ میں داخلہ نہیں ملتا تھا۔آج کل میری آنکھیں پھیل جاتی ہیں جب میں اڑھائی سال کے بچے کو سکول جاتے دیکھتاہوں۔ والدین پریشان ہوئے پھرتے ہیں کہ کہیں بچے کی تعلیم کا ’’حرج‘‘ نہ ہوجائے۔ یہ چھوٹے چھوٹے بچے جو ابھی ٹھیک سے چلنا سیکھ رہے ہوتے ہیں کہ انہیں مونٹیسوری اور پری کلاسز اٹینڈ کرنا پڑ جاتی ہیں۔پچھلے دنوں مجھے ایک ایسے ہی سکول میں جانے کا اتفاق ہوا اور وہاں بچوں کی حالت دیکھ کرترس آنے لگا۔ ننھے منے سے بچے کلاس روم میں اونگھ رہے تھے‘ کچھ بیزار بیٹھے تھے اور کچھ موٹے موٹے آنسو بہا رہے تھے۔ یہ بچے جنہیں گھر کے ماحول سے آشنا ہونا چاہیے تھا ابھی سے سکول جانا شروع ہوگئے ہیں۔پتا نہیں ایسی کیا قیامت آگئی ہے کہ ہمیں جلد از جلد بچے کو سکول بھیجنے کی پڑی ہوتی ہے۔یہ ٹھیک ہے کہ تعلیم اور شعور اہم ہے لیکن کیا یہ سب چیزیں پانچ چھ سال کی عمر تک بچہ گھر میں نہیں سیکھ سکتا۔ اصل میں اکثرماؤں کو بھی آسانی ہوگئی ہے کہ بچے کو سنبھالنے کی بجائے اسے تعلیم و تربیت کے نام پر سکول بھیج دیتی ہیں اور خود اطمینان سے سٹار پلس لگا کربیٹھ جاتی ہیں۔

 نوکری پیشہ خواتین کی مجبوری تو سمجھ میں آتی ہے لیکن اُن ماؤں کو کیا پرابلم ہے جو خود بچے کو گھر میں بہت کچھ سکھا سکتی ہیں۔ پچھلے دنوں مجھے ایک ایسے سکول کا اشتہار پڑھنے کا اتفاق ہوا جس میں سکول انتظامیہ نے ڈیڑھ سال کے بچوں کے لیے بھی کوئی انگریزی نام والی نئی کلاس شروع کی ہے۔ ایسے سکولوں کا بس نہیں چلتا کہ وہ بچے کو پیدا ہوتے ہی اپنی تحویل میں لے لیں۔ہر چیز کی ایک عمر ہوتی ہے‘ وہ بچے جنہیں بچپن میں ہی مدبر بنا دیا جاتا ہے وہ ساری زندگی اپنا بچپن تلاش کرتے رہتے ہیں۔ زمانے کی ترقی نے بچپن کی عمر بھی گھٹا دی ہے‘ پہلے بچپن آٹھ سے دس سال تک کا ہوتا تھا۔آج کل ایک ڈیڑھ سال میں ہی ختم ہوجاتاہے۔وہ بچے جن کی صحت کے لیے جی بھر کے سونا ضروری ہوتا ہے انہیں ماں کچی نیند سے اٹھا کر سکول کے لیے تیار کرنا شروع کر دیتی ہے۔

بچہ اپنے ابتدائی پانچ چھ سالوں میں جو کچھ سیکھتا ہے وہ گھر سے ہی سیکھتاہے اور اس میں ایک اعتماد پیدا ہوتاہے۔ دنیا میں کوئی سکول اڑھائی سال کے بچوں کو باتھ روم جانے کے عملی طریقے نہیں سکھاتا ‘ سونے کے آداب نہیں بتاتا‘ یہ سب چیزیں مائیں بتاتی ہیں اور انہیں سمجھنے میں بچے کو کچھ وقت لگتاہے اسی لیے پہلے وقتوں میں لازم تھا کہ بچہ شعور کی ابتدائی منازل طے کرنے کے بعد سکول میں داخل ہو تاکہ کم ازکم و ہ اپنا آپ سنبھال سکے۔ آج کل ایسا نہیں ہوتا۔بچے ڈائپرز پہن کر سکول آتے ہیں اور والدین بھاری فیسیں دے کر خوش ہوتے ہیں کہ ان کا بچہ چھوٹی سی عمر میں ہی آئن سٹائن بن رہا ہے۔ بچے جوں جوں تعلیم سے آشنا ہورہے ہیں‘ علم سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ آپ کسی چھٹی یا ساتویں کلاس کے بچے کا نصاب دیکھئے‘ آپ کے ہوش اڑ جائیں گے۔ بچوں کی میتھ کی کتابیں دیکھ کر سر چکرا جاتاہے‘ لیکن خوشی ہوتی ہے کہ جو چیز ہم نے سولہ سالوں میں سیکھی ‘ وہ ہمارا بچہ سات سالوں میں سیکھ رہا ہے۔یہ وہ سوچ ہے جو ہمیں تصویر کا دوسرا رخ دیکھنے کا موقع نہیں دے رہی۔بچے بڑوں جیسی باتیں کرنے لگے ہیں‘ بڑوں والے ڈرامے دیکھتے ہیں‘ بڑوں والی فلمیں دیکھتے ہیں اور اکثر گھریلو معاملات میں بھی بزورِ دلائل اپنا حصہ ملانے کی کوشش کرتے ہیں۔ قصور ہمارا اپنا ہے‘ ہم نے بچے کو بچہ رہنے ہی نہیں دیا۔ہم خود تو چالیس سال کی عمر میں بھی بچپنا نہیں چھوڑتے لیکن اپنے بچوں کو اڑھائی سال میں ہی بزرگ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

توتلی زبان میں باتیں کرنے والا بچہ جب اٹھا کر سکول میں ڈا ل دیا جائے تو کیا یہ اس کے ساتھ ظلم نہیں؟؟؟ یہ وباء پورے ملک میں پھیلتی جارہی ہے اور دلیل یہ دی جاتی ہے کہ بچہ اتنی چھوٹی عمر میں کتابیں نہیں پڑھ رہابس سکول جاکر کھیل ہی کھیل میں سیکھنے کی کوشش کرتاہے۔ عالی جاہ! یہ چھوٹا بچہ روزانہ ٹائم پر اٹھے گا‘ ٹائم پر تیار ہوگا اور ٹائم پر سکول کے لیے روانہ ہوگا تواس کی زندگی میں بے ترتیبی کا حسن کہاں جائے گا؟؟ ؟ کچھ سال بعد اس نے سکول تو جانا ہی جانا ہے ‘ پھر اس کی چھوٹی چھوٹی شرارتوں کو ابھی سے تہذیب کے دائرے میں قید کرنے کی کیا ضرورت ہے؟کیاپانچ چھ سال کی عمر میں سکول جانے والے بچے بدتہذیب ہوجاتے ہیں؟ کیا تہذیب کا انحصار بچے کو چھوٹی عمر میں سکول بھیجنے میں ہی ہے؟کہیں یہ اپنے فرائض سے جان چھڑانے کی کوئی کوشش تو نہیں؟ چھوٹابچہ جو اپنے اردگرد کا ماحول بھی سمجھنے سے قاصر ہوتاہے اسے اتنی کم عمری میں ’’ڈیوٹی‘‘پر لگا دینا کہاں کا انصاف ہے؟؟؟ 

چھ سال کا بچہ جب سکول میں داخل ہوتاہے تو وہ بھی پہلے دن روتاہے‘ کچھ گھبراتاہے‘ لیکن اسے سمجھایا جاسکتاہے‘ بات کی جاسکتی ہے لیکن اڑھائی سال کا بچہ جو صبح دیر تک سونا چاہتا ہے‘ ماں سے لپٹا رہنا چاہتاہے‘ گھر میں اودھم مچانا چاہتاہے‘ بیڈ پر چھلانگیں لگانا چاہتاہے‘ ماں کی گود میں بیٹھنا چاہتا ہے اسے جب سکول جانے کا عادی بنا دیا جاتا ہے تو اس کی ساری شوخیاں‘ ساری کلکاریاں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دفن ہوکر رہ جاتی ہیں۔ یہ بچہ تہذیب تو سیکھ جاتاہے لیکن معصومیت سے عاری ہوجاتاہے۔جس عمر میں اسے کپڑوں کا تکلف بھی نہیں کرنا چاہیے اُس عمر میں وہ یونیفارم سے آشنا ہوجاتا ہے‘ ننگے پاؤں گھومنے کی خوشی چھین کر اسے کالے بوٹوں میں قید کردیا جاتاہے اور اوائل عمری سے ہی اس کے ذہن اس جملے کے عادی ہوجاتے ہیں’’چلو بیٹا! اب سو جاؤ صبح سکول کے لیے بھی اٹھنا ہے‘‘۔ ہ

م سب اپنے بچوں کا بہتر مستقبل چاہتے ہیں‘ والدین کے ذہن میں بھی یہی ہوتاہے کہ شاید کم عمری میں بچے کو سکول بھیجنے سے ان کا بچہ زیادہ جلدی پڑھا لکھا ہوجائے گا حالانکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم بچے کو علم سے آشنا کرنے کی بجائے نئی زبان سکھانے میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہوتے ہیں۔ آٹھ سال کا بچہ اگر انگریزی میں بات کرے تو اِسے بخوشی علم کی معراج سمجھ لیا جاتا ہے‘ ان کی نسبت اردو بولنے والے بچے ناخواندہ شمار ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہمارے زمانے میں انگریزی کی ٹیویشن رکھنا پڑتی تھی‘ آج کل اردو کی رکھنا پڑتی ہے۔بچہ رومن اردو تو فٹافٹ لکھ لیتا ہے لیکن ’’اصل اردو‘‘ لکھنے کو کہا جائے تو اسے یہ بھی سمجھ نہیں آتا کہ ’’ہجے‘‘ کسے کہتے ہیں۔ تعلیم بہت ضروری ہے لیکن اس سے زیادہ تربیت ضروری ہے۔ اور تربیت سے یہ مراد ہرگز نہیں کہ دودھ پیتے بچوں کو مشینی زندگی میں دھکیل دیا جائے۔ جن بچوں کو گھر کی ضرورت ہے انہیں اپنی خوشیاں گھر میں منانے کا بھرپور موقع دیں‘ انہی کے دم سے گھر میں رونق ہوتی ہے ‘ انہی کی شرارتیں گھر کی جامد فضا کا سحر توڑتی ہیں۔۔۔انہیں کچھ دن تو یہ عیش کرلینے دیجئے‘ ایسا نہ ہو کہ جب یہ بچے بڑے ہوں اور کوئی ان سے پوچھے کہ بیٹا آپ بچپن میں کون سی شرارتیں کیا کرتے تھے اور یہ ہکا بکا رہ جائیں کہ شرارتیں کیا ہوتی ہیں؟؟؟۔

"ماں"

"ماں"

 ایک شخص ایک دن جب اپنے گھر گیا تو اس نے دیکھا کہ اس کی بیوی

 اس کے چھوٹے سے بچے کے چھوٹے سے بستر پر اس کے ساتھ ہی لیٹی تھی۔

 وہ شخص حیران ہوا اور بولا کہ اگر آرام کرنا ہے تو اپنے بستر پر لیٹ جاتیں۔ یہاں تو اور ہی تھک گئی ہوگی۔ اس کی بیوی اٹھ بیٹھی اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔

شوہر پریشان ہوگیا۔ بیوی نے پوچھنے پر بتایا کہ صبح وہ کچھ امداد دینے کسی یتیم خانے گئی تھی۔ وہاں اس نے دیکھا کہ چھوٹے چھوٹے سے بچے جو ابھی کچھ مہینوں کہ ہی تھے،

 اپنے پنگھوڑوں میں چپ چاپ تمیز سے لیٹے ہوئے تھے۔ وہ بہت خوش ہوئی اور وہاں موجود نگران خاتون سے پوچھا کہ آپ نے ان چھوٹے چھوٹے سے بچوں کی اتنی شاندار تربیت کیسے کی؟ آپ مجھے بھی مشورہ دیں۔ میرا بھی ایک چھوٹا بچہ ہے۔ اس نگران خاتون نے جواب دیا کہ ہم دعا کریں گے کہ آپ کا بچہ کبھی تمیزدار نہ ہو

 اور خدا اس کے لئے آپ لوگوں کو زندہ رکھے۔ یہ بچے جب یہاں آتے ہیں تو شروع کے دنوں میں بھوک لگنے پر اور ڈائپر خراب ہونے پر روتے ہیں۔ مگر ہمارا عملہ اتنا نہیں کہ بچوں کو انفرادی توجہ دے سکیں تو ہم انہیں رونے دیتے ہیں۔ کچھ ہی دنوں میں انہیں عادت ہوجاتی ہے کہ یہاں ان کے رونے سے ان کی حاجت روائی نہیں ہوگی۔ 

کھانا ہو یا ڈائپر تبدیل کرنا۔ ہنگامی صورتحال کے علاوہ ہر چیز مقررہ وقت پر ہی انجام پاتی ہے۔ جب وہ یہ بات سمجھ لیتے ہیں تو ان کا رونا کبھی کم اور عموما بلکل ختم ہوجاتا ہے۔ یہ بچے بھی اگر اپنے والدین کے ساتھ ہوتے تو بھوک لگنے پر، ڈائپر گندا ہونے پر، جذباتی قربت کے لئے یا کسی ایسے مسئلے کے حل کے لئے جسے ان کے ننھے ذہن سمجھنے سے قاصر ہیں، 

رو رو کر اپنے والدین کی توجہ خود پر مبذول کراتے۔ ان کی مدد حاصل کرنے کی کوشش کرتے۔ ان کے محبت کی نرمی اور گود کی گرمی کو محسوس کرتے۔ مگر کیونکہ ایسا نہیں ہے اور ہم خود بہت مجبور ہیں۔ 

تو ہم انہیں رونے دیتے ہیں۔ کچھ دن بعد یہ خود ہی تھک کر چپ ہوجاتے ہیں۔

اور اسی لیے جب سے وہ عورت وہاں سے آئی تھی اپنے بچے کے ساتھ لگی بیٹھی تھی۔


اللّٰه ہر اولاد پر اُسکے والدین کا سایہ سلامت رکھے آمین۔

Mother Love